Wednesday, June 20, 2018

آک کا دودھ پینے کی کرامت

doodh nana sandal badshah qadri someshwara temple laxmeshwar karnataka laxmeshwar population doodh nana dargah nearest railway station laxmeshwar taluk villages list laxmeshwar videos laxmeshwar to gadag lakkundi temples photos doodh nana sandal badshah qadri someshwara temple laxmeshwar karnataka laxmeshwar population doodh nana dargah nearest railway station
آک کا دودھ پینے کی کرامت
’’آک ‘‘ایک درخت کا نام ہے ۔جسے ’’مدار اور اکوا ‘‘بھی کہتے ہیں اس کا دودھ زہر یلا ہوتا ہے۔ حضرت سید سلِمان بادشاہ قادری چشتی بغداری رحمتہ اﷲ علیہ (دودھ نانا) کی یوں تو بہت سارے کرامات مشہور ہیں اُن میں سے ایک کرامت کا یہاں مختصر ذکر کیاجارہا ہے۔
حضرت سے عقیدت و محبت رکھنے والے لوگوں کی کوئی کمی نہیں تھی لیکن کچھ بدبخت لوگ ایسے بھی تھے جو حضرت سے محبت کے بجائے نفرت کرتے تھے۔ جو اس جہاں میں کبھی شاد و آباد نہ ہوسکے۔ اور اﷲ نے انہیں ذلیل و خوار کردیا۔
اولیا ء اللہ سے محبت با عث سعادت ہے اور اولیا ء اللہ سے عداوت بد بختی اور سقاوت ہے  حضرت ابو ہریرہ رضی للہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما یا ہے بیشک اللہ تعا لیٰ نے ارشاد فرما یا جو شخص میرے ولی کے سا تھ دشمنی رکھے میں اس سے اعلا ن جنگ کر تا ہوں۔ (حوالہ خطبات غوث ورضا )جو اولیا ء کا دشمن ہے خوا ہ وہ کتنی نما زیں کیوں نہ پڑھیں اور روزے کیو ں نہ رکھیں اللہ تعا لیٰ ایسے شخص سے را ضی نہیں ہو تا ۔اور جو اولیا ء اللہ سے عداوت رکھے اللہ تعالیٰ اس پر قہر و غضب نا زل فرما تا ہے ۔
ایک دن کا واقعہ ہے کہ حضرت اپنے مُریدوں کے ہمراہ ایک درخت کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔کہ آپکے دُشمن کسی سازش کے تحت آپ کے پاس آئے اور انہوں نے آپ کو پینے کے لئے آک کا دودھ دیا۔آپ جانتے تھے کہ اس پیالے میں کیا ہے پھر بھی آپ نے اس دودھ کو نوش فرمالیاتو حضرت کو یوں محسوس ہوا جیسے کہ اُنکے شکم میں آگ اُنڈھیل دی گئی ہو۔ حضرت بے قرار و بے چین ہو اُٹھے اور حضرت کو ایک قئے ہوئی اور حضرت اﷲحسبی حسبی اﷲ کہتے ہوئے اللہ کی عبادت میں مشغول ہوئے تو اﷲ نے حضرت کو شفا بخشی پھر انہیں آرام محسوس ہوا۔ اسی طرح حضر ت کے خلاف سازش کرنے والے دشمنوں کا منہ دونوں جہاں میں کالا ہوگیا۔ لیکن پھر بھی دشمنوں کو چین نہ آیا۔ اور حضرت کے خلاف اُنکی دشمنی باقی رہی۔ وہ شب و روز اسی فکر میں رہتے تھے کہ کسطرح سے حضرت کو پریشان کیاجائے۔ اب دوسری سازش کے تحت جادوکرناچاہا اور ایک جادوگر کو جوشرابی اور قماری تھا دین سے دور تھا۔ دو سو روپیوں کا لالچ دیکر ایک کار شر کو سر انجام دینے کے لے تیار کرلیا گیا حضرت جب درخت کے سائیے میں کُرسی پر آرام فرما رہے تھے۔ تب و ہ جادو گر بھیس بدل کر حضرت کے روبرو پہنچا اور اس بدبخت نے حضرت پر جادو کا پھونک مارا۔ جس کے اثر سے حضرت کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیااوروہ جادوگروہاں سے فرار ہوگیا۔ حضرت نے جلدی سے وضوکیا تو جادو کا اثر زائل ہو گیا۔ ادھرشفاپانے کے بعد حضرت نے اپنا کھڑائوںہوا پائوں سے نکا ل کر اُلٹا رکھناتھا کہ جادو گر منہ کے بل زمین پر گرپڑا۔ اور اُس کہ منہ سے خون جاری ہوگیا۔ اور وہ وہیں پر ڈھیر ہو گیا۔ حضرت نے اپنے مُریدوں سے فرمایا کہ ابھی جو شخص یہاں پر آیا تھا وہ میرا دشمن تھا اور فرمایا کہ وہ جنگل میں مرا پڑا ہے۔ اُسکی کمر میں دو سو روپئے بندھے ہوئے ہیں۔ جب مُرید دوڑ کر وہاں پہنچے تو وہ جادو گر زمین پر مرا پڑا تھا۔ اور اُسکی کمر میں روپئے بندھے ہوئے تھے۔ جب مُرید روپئے لیکر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت نے اُس رقم پر نظر بھی نہ ڈالی ۔ کیونکہ وہ ایک بلند پایہ سیرت کے مالک تھے۔ حضرت نے مریدوں سے فرما یاکے وہ روپئیے تم لے جائو اور خوشیاں منائو۔ حضرت کو دنیا سے انتہائی درجے کی بے رغبتی تھی۔ وہ اﷲ کے سچے ولی تھے ہندو ہو یا مسلمان سب کے پیارے تھے۔ لوگ اُن پر قربان تھے۔ اُن سے عقیدت رکھتے تھے اُسی طرح اﷲ ہمیں بھی حضرت کے فیض و برکات سے استفادہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ) 

No comments:

Post a Comment

Urdu

Popular Posts

Popular Posts